Sat Oct 24, 2026

امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور اردن، گرجا گھر میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 20 زخمی پاکستان اور سعودیہ نے مکہ معاہدے کی توثیق کے مراحل مکمل کرلیے، دفترخارجہ یمن پر سعودی اور اتحادی فورسز کے حملوں میں 9 شہری جاں بحق امریکا نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 11 ارب ڈالر پھونک دیے، عراقچی الخلیل میں چیک پوسٹ پر حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی اربوں ڈالر خرچ ہوگئے جنگ سے امریکا کو کیا ملا؟ ، امریکی سینیٹرز ایران پر حملہ ہوا تو انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی لائنیں تباہ کردیں گے، رحیم صفوی یورپ میں مظاہروں میں شدت: فرانس میں مرکزی طلبہ یونین کی ہفتہ کو احتجاجی ریلیوں کی کال غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید یمن کے حوثی باغی نہیں، پاکستان جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس سعودی اور عراقی وزراء خارجہ کا رابطہ، سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے مسائل حل کرے گی، وزیراعظم مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوج کی تعداد میں خاموشی سے کمی

روزانہ کی خبریں

امریکا اور چین کی موجودہ کشیدگی جنگ میں بدل سکتی ہے، ہنری کسنجر

واشنگن :سابق امریکی وزیر خارجہ اور نامور سیاست دان ہنری کسنجر نے انتباہ کیا ہے کہ امریکہ اور چین کی موجودہ کشیدگی کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں جنگ ہوسکتی ہے۔ چین کی موجودہ طاقت کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ملک مستقبل میں امریکہ کے لئے خطرہ بنے گا جس سے دونوں کے درمیان جنگ چھڑسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کے اپنے اپنے نظریات ہیں اور ثقافتی حوالے سے ایک دوسرے کے رقیب ہیں۔ حالیہ دنوں میں جنوبی چین کے سمندروں میں ہونے والی کشیدگی کے باعث فوجی تصادم بھی ہوسکتا ہے۔ ان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں ملکوں کے درمیان جنگ سے گریز کیا جاسکتا ہے یا مسلح تصادم یقینی ہے؟ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تصادم کی صورت میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مہلک ہتھیار رکھتے ہیں جس کی وجہ سے اگر جنگ ہوئی تو انسانی تمدن کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔اس سے پہلے بھی ہنری کسینجر نے امریکی ٹی وی سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی جاری رہی تو جنگ سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں دنیا کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔ اس حوالے سے اگلے 30 سال امریکہ کے لئے بہت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین نے حالیہ سالوں میں نہایت سرعت کے ساتھ ترقی کی ہے اور دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن گیا ہے۔ امریکہ اب بھی اس زعم میں مبتلا ہے کہ چین سے جنگ کی صورت میں کامیابی اس کا مقدر ٹھہرے گی یہی سوچ ہمیں چین کے مقابل میں کھڑا کررہی ہے۔ اوباما اور ٹرمپ کے دور اقتدار میں یہ سوچ واضح تھی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تنہا پوری دنیا کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر جنگ ہوجائے اور دونوں میدان میں اترجائیں تو دنیا میں ایسی تباہی آئے گی جو جنگ عظیم اول میں بھی نہیں دیکھی گئی تھی۔انہوں نے مستقبل میں درپیش خطرات کے پیش نظر کہا کہ امریکہ اور دوسرے ممالک کی خارجہ پالیسی بنانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے باہمی گفتگو اور مذاکرات شروع کریں۔

مزید پڑھیے

Most Popular