
اسلام آباد: مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر حکومت کا دینی جماعتوں اور مدارس انتظامیہ کے ساتھ تنازعہ شدت اختیار کرگیا۔ پاکستانی صدر آصف زرداری کی جانب سے قومی اسمبلی سے منظور بل پر دستخط نہ کرنے اور اعتراضات سے دینی و سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شدید برہم ہیں اور انہوں نے بل منظور نہ کرنے پر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ نے کہاہےکہ صدر کے اعتراضات سے ثابت ہوگیا کہ اصل مقصد مدارس کو ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر اس کے حوالے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ پارلیمنٹ پاکستان کی نہیں ایف اے ٹی ایف کی پارلیمنٹ ہے۔ ایف اے ٹی ایف (فائنینشئل ایکشن ٹاسک فورس) منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والا عالمی ادارہ ہے اور جے یو آئی اور دیگر دینی تظیموں کا خیال ہے کہ حکومت مدارس کو ایف اے ٹی ایف کے تحت لانا چاہ رہی ہے۔ تاہم وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ صدر مملکت نے مدارس رجسٹریشن بل پر جو اعتراضات لگائے ہیں وہ آئینی و قانونی ہیں۔ اس میں ایف اے ٹی ایف کا ذکر ہے اور نہ اس کا اُس سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس رجسٹریشن بل کو ایف اے ٹی ایف سے جوڑنا بے سروپا تخیّل اور خیال آرائی کے مترادف ہے۔
مدارس انتظامیہ کی متحدہ تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے صوبائی صدر مولانا حسین نے کہاہےکہ ایوان صدر کے اعتراضات سے ثابت ہوگیا ہے کہ حکومت بیرونی دباؤ کا شکار ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کو دینی مدارس کو سہولتیں دینا برداشت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس رجسٹریشن پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔


































