
اسلام آباد: چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مخصوص سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، این جی اوز اور لبرل دانشوروں کے ذریعے اس تاثر کوعام کیا جا رہاہےکہ ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ اسرائیل کی غاصب ریاست کو تسلیم کرنے میں ہے، چند معاشی مفادات کے عوض فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی سازش ناقابل برداشت ہے، رجیم چینج کا امریکی منصوبہ اپنے اصل اہداف کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا ہے، نئی نسل کی ذہن سازی اور اسرائیل کو سازگار ماحول فراہم کرنا نہ صرف پاکستانی قوم کے ساتھ خیانت ہو گی، بلکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات سے بھی صریحاً انحراف ہو گا، صیہونی غاصب ریاست کے حوالے سے معمولی سی لچک کشمیر پر ہمارے موقف کو کمزور کرنے کا باعث بھی بنے گی، نگران حکومت کس حیثیت سے فلسطین کے اصولی موقف سے روگردانی اختیار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے فیصلے عوامی امنگوں اور زمینی حقائق کے مطابق ہونے چاہئیے نہ کہ کسی نام نہاد سپر پاور کے احکامات کے تابع، عوام کسی ایسے فیصلے کو قطعاً تسلیم نہیں کریں گے، جس سے لاکھوں بے گناہ مظلوم فلسطینیوں کے خون میں ہاتھ رنگنے والے غاصبوں کو تقویت ملے۔


































