
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے فوجی سربراہان کی مدت ملازمت تین کے بجائے پانچ سال کرنے کا بل منظور کرلیا۔ شور شرابے کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان آرمی 1952 ۔ نیوی ایکٹ 1961 اور ائرفورس ایکٹ 1953 میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا۔ جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ بل کے تحت سروسز چیفس کی مدت ملازمت تین کے بجائے پانچ سال ہوجائے گی۔ فوج میں جنرل کی ریٹائرمنٹ کے قواعد کا اطلاق آرمی چیف پر نہیں ہوگا۔ تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا ایکسٹینشن کی صورت میں آرمی چیف بطور جنرل کام کرتا رہے گا۔ قانون سازی کے دوران اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی جاری رکھی اور اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر کے بل کی کاپیاں پھاڑ کر اچھالیں۔ اس دوران اراکین آپس میں گتھم گتھا بھی ہوئے۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی اجلاس شروع ہوا تو وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
اس کے بعد وزیر قانون نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس اور اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل 2024 پیش کیا دونوں بل کثرت رائے سے منظور کرلئے گئے۔ بلوں کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد سترہ سے چوبیس جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد نو سے بڑھ کے 12 ہوجائے گی۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل کا اطلاق 26 ویں آئینی ترمیم سے پہلے لاگو ہو گا۔


































