
لندن میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مبینہ ترجمان تسنیم حیدر شاہ نے دعویٰ کیاہے کہ عمران خان پر حملہ اور صحافی ارشد شریف کے قتل کی سازش لندن میں ہوئی۔ تسنیم حیدر شاہ نے دعویٰ کیا کہ وہ 20 سال سے مسلم لیگ سے منسلک ہے۔ نواز شریف کے ساتھ حسن نواز کے دفتر میں 3 ملاقاتیں ہوئیں۔ مجھے بلا کر بتایا گیا کہ ارشد شریف اور عمران خان کو قتل کرنا ہے۔ مجھے کہا گیا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری سے پہلے ارشد شریف اور عمران خان کو راستے سے ہٹانا ہے۔ ناصر بٹ نے نواز شریف سے میرا تعارف گجرات کے مضبوط شخص کے طور پر کرایا اور انہیں بتایا گیا کہ تسنیم حیدر کے پاس شوٹرز ہیں اور وہ یہ کام کر سکتے ہیں۔ جب میں نے انکار کیا تو مجھے بتایا گیا کہ ہم نے شوٹرز کا بندوبست کرلیا۔
مشیر داخلہ پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ تسنیم حیدر سے رابطہ ہوگیا اور انہیں شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔ ن لیگ کی قیادت عمران خان کو قتل کرنے اور مذہبی منافرت کے حوالے سے بیانات دے چکی ہے۔ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب اور ن لیگ برطانیہ کے صدر زبیر گل نے تسنیم حیدر سے متعلق تردیدی بیانات جاری کردیے۔ مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ تسنیم حیدر ن لیگ لندن کے ترجمان نہیں ہیں، ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ تسنیم حیدر کے پاس ثبوت ہیں تو وہ جے آئی ٹی کے قانونی فورم پر پیش کریں۔


































