
تہران: تہران میں سوئس سفیر مکمل حجاب کے ساتھ مقدس شہر قم میں روضہ کے دورے پر شدید تنقید کی زد میں آگئیں۔ تہران میں خاتون سفیر نادین اولیویری لوزانومکمل اسلامی حجاب پہنے بی بی معصومہ قم کے مزار پر پہنچیں جہاں علما نے ان کا خیر مقدم کیا اور مزار کے مختلف حصے دکھائے۔ انہوں نے علما کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ ان کی تصویر میڈیا پر آتے ہی ان پر ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو دھوکہ دینے کا الزام لگ گیا۔ یورپ میں ایران مخالف مظاہروں میں اہم کردار ادا کرنے والی بیلجیئم کی رکن پارلیمنٹ ڈاریا صفائی نےسوئس سفیر کی مذمت کی۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ سوئس سفیر کا چادر اوڑھ کر ظالموں کے پروپیگنڈا کا حصہ بننا قابل مذمت ہے۔ اداکارہ اور انسانی حقوق کی کارکن نازنین بونیادی نے کہا کہ قدامت پسند مذہبی لباس میں سوئس سفیر نے خود کو مکمل ڈھانپ لیا۔ سوئس وزارت خارجہ نے تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خاتون سفیر نے مذہبی مقام پر جانے کے لیے پروٹوکول کے مطابق مناسب لباس پہنا ہوا تھا۔


































