
کابل: کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد صدر اشرف غنی افغانستان چھوڑ گئے جبکہ کمانڈر رشید دوستم بھی تاجکستان فرار ہوگئے ہیں افغان میڈیا نے صدر اشرف غنی کے افغانستان چھوڑنے کی تصدیق کردی ہے دفتر افغان صدارت کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کے سبب اشرف غنی کی نقل و حرکت کا کچھ نہیں بتاسکتے سینیئر عہدیدار افغان وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ افغان صدر اشرف غنی تاجکستان روانہ ہوئے ہیں ادھر طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ ہم پُرامن اور جلد اقتدار کی منتقلی کے منتظر ہیں انہوں نے کسی قسم کا انتقام نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انتقام نہیں لے رہے، تمام فوجی اور سویلین اہلکار محفوظ رہیں گے بزورِ طاقت کابل میں داخل نہیں ہوں گے، اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے بات چیت کریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہتے ہیں کہ افغان دارالحکومت کا کنٹرول پرامن طریقے سے ملے، اس کے لیے چند روز یا ہفتہ بھی لگا تو انتظار کریں گے۔ افغان صدارتی محل میں اقتدار کی منتقلی کیلئے مذاکرات کے دوران کابل پرحملہ نہ کرنےکامعاہدہ طےپاگیا، مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے ثالث کا کردار ادا کیا قائم مقام افغان وزیرداخلہ نے بتایاکہ عبوری حکومت کواقتدارکی منتقلی پرامن ماحول میں ہوگی، علی احمد جلالی کوعبوری حکومت کا سربراہ مقررکیے جانے کا امکان ہے.


































