
کابل : طالبان نے اسٹریٹجک حیثیت کے حامل شمالی صوبے قندوز، سرے پل اور تخار پر قبضہ کرلیا، طالبان اب تک 5صوبائی دارالحکومتوں کا کنٹرول حاصل کرچکے ہیں، طالبان کا کہنا ہے کہ تینوں صوبائی دارالحکومتوں میں لڑائی کے دوران کئی افغان اہلکار مارے گئے جبکہ سینکڑوں اہلکاروں نے ہتھیار پھینک دیے ہیں، انہوں نے حکومتی مراکز اور سیکیورٹی اداروں کے مراکزسمیت کئی تنصیبات کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے ، طالبان کا کہنا ہے اس دوران انہوں نے بھاری مقدار میں فوجی سازوسامان بشمول فوجی گاڑیوں ، اسلحہ وگولہ بارود بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے، طالبان نے تینوں صوبائی دارالحکومتوں کی جیلوں سے قیدی بھی چھڑالئے ہیں ، افغان وزارت دفاع کے مطابق قندوز میں سرکاری فورسز اہم تنصیبات کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں، فورسز نے کلیئرنگ آپریشن شروع کردیا ہے اور کچھ مقامات بشمول ریڈیو اور ٹی وی کی عمارتوں کو طالبان سے واپس حاصل کرلیا ہے، افغانستان کے مغربی شہر ہرات اور جنوبی شہروں لشکر گاہ اور قندھار میں بدستور شدید لڑائی کا سلسلہ جاری ہے ، امریکی افواج نے افغان اتحادیوں کے دفاع میں متعدد فضائی حملے کئے ہیں، افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں سینکڑوں طالبان جنگجو مارے گئے، افغان فورسز اور طالبان کے درمیان افغانستان کے اہم شہروں پر کنٹرول کی لڑائی میں بچوں اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہلاک اور زخمی ہوئی ہے، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہسپتال بھر چکے ہیں اور انھیں زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔


































