
اسلام آباد: سینیٹ نے 26 ویں آئینی ترامیم کی تمام 22 شقوں کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں بل کی شق وار ووٹنگ اور منظوری کا عمل مکمل کیا گیا، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26 ویں آئینی ترامیم کا بل اور ووٹنگ کیلئے تحریک سینیٹ میں پیش کی، ووٹنگ کے عمل سے قبل ایوان میں گھنٹیاں بجائی گئیں اور ہال کے دروازے بند کر دیئے گئے۔
دریں اثنا ایوان میں وقفہ سوالات اورمعمول کا ایجنڈا معطل کرنے کی تحریک منظور کر لی گئی، معمول کا ایجنڈا معطل کرنے کی تحریک اسحاق ڈار نے پیش کی۔
دوسری جانب سینیٹ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیمی بل پراپوزیشن سمیت تمام جماعتوں سے مشاورت کی گئی۔
سینیٹ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیمی بل پراپوزیشن سمیت تمام جماعتوں سے مشاورت کی گئی ،19 ویں آئینی ترمیم عجلت میں منظورکی گئی جس نے آئین کے توازن کوبگاڑدیا۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعنیاتی کےلیے سب مشاورت سے فیصلہ کریں گے، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے سکے گا، چیف جسٹس آف پاکستانی کی تقرری کی مدت تین سال پر مشتمل ہو گئی۔
اعظم تارڑ کا کہنا تھا کہ کمیشن میں ججز کی تقرری کا فیصلہ اکثریتی ووٹ سے ہوگا، پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججز میں چیف جسٹس کا نام نامزد کرے گی ،قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے تو سینیٹ کے 4 ارکان کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
سینیٹ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین قوم کو متحد کرنے کیلئے رضا مندی اور اتفاق رائے سے بنایا جاتا ہے، ترامیم میں اتفاق رائے نہ ہو تو قوم کو نقصان ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 1962 کا آئین مسلط کیا گیا جو 8 سال بعد ختم ہوگیا، لوگوں کے بیوی، بچے اغوا کرکے ووٹ لینے کا عمل اتفاق رائے نہیں، آج بھی ہمارے کچھ سینیٹرز اور ان کے اہل خانہ اغوا ہیں، ترمیم کے موجودہ عمل میں لوگوں کی رضا مندی شامل نہیں۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ہو سکتا ہے آج آپ ترامیمی بل پاس کرالیں ، اس آئینی ترامیم کیلئے لوگوں کو لوٹا بنایا جارہا ہے ، ووٹ کا یہ عمل جرم، جمہوریت اور آئین کے خلاف ہے،چیئرمین سینیٹ ہمارے اراکین کے ووٹ شمار نہ کریں ، ہماری پارٹی کا فیصلہ ہے کہ ہم اس آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کریں گے۔
ایوان میں آئینی مسودہ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب سے یہ آئینی ترامیم کا عمل شروع ہوا ، اس وقت سے لوگوں کو ترامیم کیلئے خریدا جارہا ہے ، آئینی بل میں بہت سے بنیادی انسانی حقوق کو مسترد کیا گیا۔
علی ظفر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سہولت کاری کی وجہ سے عمران خان سے جیل میں ملاقات کرائی گئی، پندرہ دن سے بانی پی ٹی آئی کو دس بائی پندرہ فٹ کے کمرے میں بند کیا گیا، عمران خان کو کچھ معلوم نہیں تھا ملک میں کیا ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بتایا سارا کچھ 25ا کتوبر کی وجہ سے کیا جارہا ہے، بانی پی ٹی آئی نے کہا ہم کسی پریشرمیں نہیں آئیں گے۔ علی ظفر کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کوئی عام ڈاکیومنٹ نہیں ہے، ایوان میں بہت سارے لوگوں کو اس ترمیم بارے پتہ بھی نہیں ہوگا، اس طرح ترمیم پاس کریں گے تو جمہوریت پر بہت بڑا دھبہ ہوگا۔


































