
بیروت : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے سعودی عرب پر لبنان میں خانہ جنگی کو ہوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض لبنانی عوام اور حکومت کے ساتھ دوستی کا دکھاوا کرتا ہے دوسری جانب وہ اپنے اتحادیوں کو عوامی مزاحمتی تحریک کے خلاف کھڑا ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ وزیر اطلاعات پر مستعفی ہونے کیلئے دباؤڈالنا لبنان میں مزاحمت کے خلاف جنگ کا حصہ ہے نہ کہ ایک سیاسی جماعت کے طور پر حزب اللہ کے ساتھ اور اس لیے یہ جنگ مزاحمت کے خلاف۔ یوم شہداء کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں حسن نصر اللہ نے کہا کہ سعودی عرب نے برسوں سے لبنان کی کوئی مدد نہیں کی کیونکہ وہ ملک میں خانہ جنگی چاہتا ہے۔ انہوں نے کورداہی کے بیانات پرسعودی عرب کے ردعمل کو حد سے زیادہ مبالغہ آمیز قراردیا اور کہا کہ ایسے امریکی حکام اور عرب سفارت کارموجود ہیں جنہوں نے کورداہی کے بیان سے زیادہ سخت الفاظ میں یمن جنگ پربیان دیا۔ اُنہوں نے یمن کے مرکزی صوبے مارب پر سعودی جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یمن جنگ پر اپنے موقف کی وجہ سے برسوں سے سعودی پابندیوں کو قبول کر رکھا ہے۔ سعودی عرب کا اصل مسئلہ یمن کے ساتھ ہے، خاص طور پر مارب میں اور سعودیہ جنگ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کے ساتھ سعودی تنازع یمنی فورسز کی جانب سے مارب میں سعودی حمایت یافتہ افواج کے خلاف کامیابیوں کا ردعمل تھا، لیکن دباؤ کام نہیں کرے گا اور شہر کے حتمی زوال کے بہت بڑے نتائج ہوں گے۔ حسن نصراللہ نے سعودی عرب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ جنگ کو روکنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد راستہ جنگ بندی کو قبول کرنا اور یمن کیخلاف محاصرہ ختم کرنا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے شام میں عرب حکمرانوں کی تاریخی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کا دورہ شام در حقیقت شامی صدربشار اسد کی کامیابی اور شام مخالف عرب حکمرانوں کی ناکامی اور شکست کا مظہر ہے۔ انھوں نے کہا کہ عرب حکمرانوں نے شام کے صدر بشار اسد کی حکومت کو گرانے کے لئے طاقت اور دہشت گردی کا بھر پور استعمال کیا ، عرب حکمرانوں نے اربوں ڈالر خرچ کئے، شام کو عرب لیگ سے بھی نکال دیا لیکن آج وہی عرب حکمران شام کو عرب لیگ میں واپس لانے کے خواہشمند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج شام کے مخالف عرب حکمران ، شام کے صدر کے ساتھ رابطہ برقرار کررہے ہیں جو ان کی شام کے خلاف دہشت گردانہ جنگ میں شکست اور ناکامی کا مظہر ہے۔ اسلامی مزاحمت آج قدرت اور طاقت کی عظیم بلندی پر فائز ہے اور اس نے اسرائیل پر لرزہ طاری کررکھا ہے اسرائیل کی فوجی مشقیں اس بات کا مظہر ہیں کہ اسرائیل کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ کہیں اسلامی مزاحمت الجلیل میں داخل نہ ہوجائے۔


































