
تہران : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے سلامتی کونسل کی اُن قراردادوں کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش، جو 2015 میں جوہری معاہدے کے نتیجے میں ختم کی گئی تھیں، بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔ انہوں نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ ان غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت نہ دیں۔ عراقچی نے تنازعات کے حل کے طریقہ کار اور سلامتی کونسل کے سیاسی استعمال پر بھی شدید تنقید کی اور واضح کیا کہ یورپی ممالک کی یہ کوششیں ایران کے خلاف یکطرفہ دباؤ کی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے قرار داد 2231 کی 18 اکتوبر 2025 کو متوقع معیادِ ختم ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں کے غلط استعمال کے خلاف غیر وابستہ تحریک کے رکن ممالک کو اجتماعی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے احترام، ریاستوں کی خودمختاری اور طاقت کے استعمال کی ممانعت جیسے اصولوں کو غیر وابستہ تحریک کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو یکجہتی کے ذریعے بڑی طاقتوں کی بالادستی کے عزائم کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ ہے، جس کا حل صرف فلسطینی عوام کو خود ارادیت کا حق دینے سے ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کی جدوجہد کو قانونی اور جائز حیثیت دیتے ہوئے اس کی حمایت کریں.


































