
تہران : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان نے مشترکہ سرحدوں کے قریب عدم تحفظ اور کسی بھی دہشتگردانہ نقل و حرکت سے نمٹنے کیلئے تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ ایران کے پریس ٹی وی سے انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے تین سالوں کے دوران، ایران سے باہمی تعلقات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان نے بہتر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں سے ایک ایران کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانا ہے اور ہمیں امید ہے کہ باڑ لگانے کا کام رواں سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ وزیر خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کیلئے علاقائی تعاون اور ایران میں افغان پڑوسی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے دوسرے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی اور وہاں اس گروہ کے دہشتگرد عناصر کی نقل و حرکت، پاکستان سمیت دیگر علاقائی ملکوں کے شدید خدشات کا سبب بنی ہوئی ہے۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی تجویز چیلنجز پر قابو پانے کے لیے مشترکہ مدد ہے اور دہشت گردی افغانستان اور خطے کا سب سے بڑا چیلنج ہے انہوں نے پاکستانی فضائی حدود کے ذریعے افغانستان میں امریکی انٹیلی جنس آپریشنز کے لیے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی معاہدے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اچانک انخلا اور اشرف غنی کی حکومت کی کمزوری افغانستان میں افراتفری کی بنیادی وجہ ہے۔


































