
معروف سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی پارکنگ سے 26 نومبر کی رات 11 بجے نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا، مطیع اللہ جان کے بیٹے سمیت اسلام آباد کے کئی صحافیوں نے مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا کا دعویٰ کیا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی پی جے) نے مطیع اللہ جان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا۔
صحافی مطیع اللہ جان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر صبح 5 بجکر 9 منٹ پر کی گئی پوسٹ میں ان کے بیٹے نے بتایا کہ ’مطیع اللہ جان کو آج رات 11 بجے پمز کی پارکنگ سے نامعلوم اغوا کاروں نے ثاقب بشیر (جنہیں 5 منٹ بعد چھوڑ دیا گیا) کے ساتھ ایک نامعلوم گاڑی میں اغوا کر لیا‘۔
پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’یہ واقعہ اسلام آباد میں ہونے والے مظاہروں کی ان کی جرات مندانہ کوریج کے بعد پیش آیا ہے‘۔
مطیع اللہ جان کے صاحبزادے نے مزید لکھا کہ ’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ میرے والد کو فوری طور پر چھوڑ دیا جائے اور ان کے اہل خانہ کو فوری طور پر ان کے ٹھکانے کے بارے میں مطلع کیا جائے‘۔
اس سے قبل مطیع اللہ جان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ان کے بیٹے عبدالرزاق نے اپنی ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ’میرے والد مطیع اللہ کو کل رات ساڑھے 11 بجے پمز ہسپتال کے سامنے سے ثاقب بشیر انکل کے ساتھ اٹھایا، نامعلوم گاڑیوں میں سوار نامعلوم افراد نے اپنا کوئی تعارف نہیں کرایا کہ پولیس سے ہیں یا رینجرز سے ہیں یا کوئی اور ہیں، کیونکہ یہ جمہوریہ پاکستان ہے، یہاں عوام یا عوام کے نمائندوں کو کیا بتانے کی ضرورت ہے کہ کون کہاں پر ہے؟‘
سینئر صحافی حامد میر نے بھی ’ایکس‘ پر مطیع اللہ جان کے بیٹے کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے، حامد میر نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا ہے کہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو ایک اور صحافی ثاقب بشیر کے ساتھ نامعلوم افراد نے 26 نومبر کی رات اغوا کیا، بعد ازاں ثاقب بشیر کو چھوڑ دیا گیا تاہم مطیع اللہ جان تاحال لاپتا ہیں، حامد میر نے بتایا کہ ثاقب بشیر آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کریں گے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اورصحافتی تنظیموں نے صحافی مطیع اللہ جان کی مبینہ گرفتاری کی مذمت کی ہے۔
ایچ آر سی پی نے مطیع اللہ جان کی فوری رہائی کامطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مطیع اللہ جان کو فوری اور غیرمشروط طور پر رہا کیاجائے،صحافیوں کوخاموش کرنےکا یہ آمرانہ حربہ بند ہونا چاہیے۔


































