
نئی دہلی : بھارت کے معروف عالم دین اور مفکر مولانا کلب صادق کو بعدازمرگ ملک کے دوسرے بڑے سول ایوارڈ پدم بھوشن سے نوازا گیا ہے۔ انہیں بھارت کے یوم جمہوریہ پر ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ صدر رام ناتھ کوند نے ایک خصوصی تقریب میں ایوارڈ تقسیم کئے۔ ڈاکٹر کلب صادق کے بیٹے کلب سبطین نوری نے بھارتی صدر سے ایوارڈ وصول کیا۔ وہ بھارت کے پہلے عالم ہیں جنہیں اس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ کلب صادق مرحوم اپنی روشن خیالی اور رواداری کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ طویل عرصہ تک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکے نائب صدر رہے اور انھوں نے شیعہ سنی اتحاد کے لیے اہم کوششیں کیں۔ دنیا بھر میں شیعہ عالم کی حیثیت سےمنفرد پہچان بنانے والے مولانا کلب صادق کی پوری زندگی تعلیم کے فروغ اور مسلم معاشرے سےفرسودہ روایات اورسوچ کے خاتمے کی جدوجہد میں گزری۔ انھوں نے 1982 میں توحید المسلمین ٹرسٹ قائم کیا اور اس کے تحت غریبوں کی تعلیم اور علاج کا بندوبست کیا اور کئی فلاحی اداروں کی بنیاد ڈالی۔ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دوماہ قبل لکھنؤمیں جب ان کا انتقال ہوا توجنازے میں پورا شہر امڈآیا تھا جس میں ہر فرقہ اور مسلک کے لوگ موجود تھے۔ انھوں نے پوری زندگی تعلیم کے فروغ کے لیے کام کیا۔ یونٹی کالج اور ایرا کالج جیسے تعلیمی ادارے ان کی یادگار ہیں۔ وہ پہلے ایسے مولانا تھے جنھوں نے شیعہ سنی دونوں فرقوں کو ایک ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دی اور ان کی امامت بھی کی۔ وہ شیعہ سنی اتحاد کے ساتھ ساتھ ہندومسلم بھائی چارے کے لیے بھی کوشاں رہے۔ وہ اپنی ہر تقریر میں اس بات پر زور دیتے تھے کہ مسلمان بھوک برداشت کریں مگر اپنے بچوں کو تعلیم ضرور دلوائیں کیونکہ تعلیم وہ واحد ذریعہ ہے جو قوم کو تاریکی سے نکال کرروشنی میں کھڑا کرسکتی ہے۔


































