Sat Oct 24, 2026

امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور اردن، گرجا گھر میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 20 زخمی پاکستان اور سعودیہ نے مکہ معاہدے کی توثیق کے مراحل مکمل کرلیے، دفترخارجہ یمن پر سعودی اور اتحادی فورسز کے حملوں میں 9 شہری جاں بحق امریکا نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 11 ارب ڈالر پھونک دیے، عراقچی الخلیل میں چیک پوسٹ پر حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی اربوں ڈالر خرچ ہوگئے جنگ سے امریکا کو کیا ملا؟ ، امریکی سینیٹرز ایران پر حملہ ہوا تو انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی لائنیں تباہ کردیں گے، رحیم صفوی یورپ میں مظاہروں میں شدت: فرانس میں مرکزی طلبہ یونین کی ہفتہ کو احتجاجی ریلیوں کی کال غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید یمن کے حوثی باغی نہیں، پاکستان جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس سعودی اور عراقی وزراء خارجہ کا رابطہ، سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے مسائل حل کرے گی، وزیراعظم مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوج کی تعداد میں خاموشی سے کمی

روزانہ کی خبریں

پارلیمنٹ نے قانون بناکر ملک کو ایٹمی مسئلے میں الجھنے سے بچا لیا، ولی امر مسلمین

تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے 2020 میں پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جو اسٹریٹجک قانون منظور کیا گیا تھا اس نے ملک کو ایٹمی مسئلے میں الجھن سے بچا لیا۔ اس قانون نے واضح طور پر وضاحت کی کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور ہم دنیا میں اس کے مظاہر دیکھ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے ولی امر مسلمین نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ انقلابی ہے۔ نظام ایک جسم کی مانند ہے جو کئی اعضا سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ اگر اس نظام کے ستون اور اراکین ایک دوسرے کی تکمیل میں مدد نہ دیں تو نظام ناکارہ ہو جاتا ہے۔ ہمیں باہمی تعاون پر توجہ دینا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ارکان نے پارلیمنٹ میں بعض قوانین بناکر ملک کی خدمت کی ہے جوکہ قابل تحسین ہے۔ ملکی آبادی کے حوالے سے پاس ہونے والا بل ملک کے لیے مایہ حیات ہے۔ ہمارے کہنے اور آپ کے قانون میں فرق ہے۔ ہمارا بولنا نصیحت کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ آپ کا قانون نافذ ہوتا ہے اور اس کی پیروی لازم ہے۔ قانون واضح ہونا چاہئے۔ ماہرین کی موجودگی میں مضبوط بنیادوں پر قانون سازی ہو تو دوبارہ ترمیم اور نظرثانی کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ انہوں نے قانون کی دوسری خصوصیت کے بارے میں کہا کہ اگرچہ قانون میں تجدید لازمی ہے لیکن بار بار تبصرہ اور ذیلی شق لگانا قانون کی کمزوری ہے۔ قانون میں تضاد ہو تو عمل ممکن نہیں ہوتا ہے اور غلط استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ قانون شکن افراد اسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے خرم شہر کی یادگار فتح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ اس زمانے میں ثالثی کے لئے آنے والے لوگ ہماری اس فتح سے حیرت زدہ ہوگئے۔ اس فتح سے انسان کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ خرم شہر کی فتح سے زیادہ بیت المقدس آپریشن اہم تھا کیونکہ اس آپریشن کے سلسلے میں خرم شہر فتح ہوا تھا۔ بیت المقدس آپریشن کی روداد، جنگی تکنیک اور شہدا کی فداکاری کے واقعات کو یونیورسٹیوں میں جنگی موضوعات میں شامل کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیے

Most Popular