
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے 2020 میں پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جو اسٹریٹجک قانون منظور کیا گیا تھا اس نے ملک کو ایٹمی مسئلے میں الجھن سے بچا لیا۔ اس قانون نے واضح طور پر وضاحت کی کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور ہم دنیا میں اس کے مظاہر دیکھ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے ولی امر مسلمین نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ انقلابی ہے۔ نظام ایک جسم کی مانند ہے جو کئی اعضا سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ اگر اس نظام کے ستون اور اراکین ایک دوسرے کی تکمیل میں مدد نہ دیں تو نظام ناکارہ ہو جاتا ہے۔ ہمیں باہمی تعاون پر توجہ دینا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ارکان نے پارلیمنٹ میں بعض قوانین بناکر ملک کی خدمت کی ہے جوکہ قابل تحسین ہے۔ ملکی آبادی کے حوالے سے پاس ہونے والا بل ملک کے لیے مایہ حیات ہے۔ ہمارے کہنے اور آپ کے قانون میں فرق ہے۔ ہمارا بولنا نصیحت کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ آپ کا قانون نافذ ہوتا ہے اور اس کی پیروی لازم ہے۔ قانون واضح ہونا چاہئے۔ ماہرین کی موجودگی میں مضبوط بنیادوں پر قانون سازی ہو تو دوبارہ ترمیم اور نظرثانی کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ انہوں نے قانون کی دوسری خصوصیت کے بارے میں کہا کہ اگرچہ قانون میں تجدید لازمی ہے لیکن بار بار تبصرہ اور ذیلی شق لگانا قانون کی کمزوری ہے۔ قانون میں تضاد ہو تو عمل ممکن نہیں ہوتا ہے اور غلط استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ قانون شکن افراد اسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے خرم شہر کی یادگار فتح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ اس زمانے میں ثالثی کے لئے آنے والے لوگ ہماری اس فتح سے حیرت زدہ ہوگئے۔ اس فتح سے انسان کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ خرم شہر کی فتح سے زیادہ بیت المقدس آپریشن اہم تھا کیونکہ اس آپریشن کے سلسلے میں خرم شہر فتح ہوا تھا۔ بیت المقدس آپریشن کی روداد، جنگی تکنیک اور شہدا کی فداکاری کے واقعات کو یونیورسٹیوں میں جنگی موضوعات میں شامل کرنا چاہئے۔


































