
پشاور: پاراچنار کے راستے 3 ہفتوں سے بند ہیں جس کی وجہ سے وہاں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہوگئی اور حکومت اب تک راستے کھلوانے میں ناکام رہی اور اس نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور ایم ڈبلیو ایم کے ایم این اے انجینئرحمید حسین نے تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پشتون خواہ میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی عاطف خان سے ملاقات کی اور ضلع کرم کی موجودہ تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انجینئر حمید حسین نے بتایا کہ ضلع کرم کو ملک کے دوسرے حصوں سے ملانے والی واحد شاہراہ ٹل پاراچنار تین ہفتوں سے بند ہے۔ جس سے علاقہ مکین محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور انسانی المیہ جنم لے رہا ہے کیونکہ روڈ کی بندش کی وجہ سے ہسپتالوں میں ادویات کی کمی سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے شدید مریضوں کو علاج کے لئے پشاور منتقل کرنا ناممکن ہے۔ پمپوں میں تیل نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں کو کھیتی باڑی میں شدید مشکلات ہیں اور لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر ہونے کا خدشہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضلع کرم میں حکومتی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے روزانہ اہم شاہراہوں پر مسافروں کو دہشت گرد نشانہ بنا رہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے.


































