
تہران : وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ دورہ پر تہران پہنچے تو مہرآباد ائیر پورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ایرانی فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی بھی پیش کی۔ وزیراعظم وفد کے ہمراہ سعد آباد محل پہنچے جہاں ایرانی صدر نے ان کا بھرپور اور گرمجوشی سے استقبال کیا۔ وزیراعظم کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔
وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات بھی ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا کیا۔ ملاقات میں سیاست،معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، بین الاقوامی امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے گہرے ثقافتی، اور تاریخی روابط ہیں اور ان روابط کو دونوں ممالک کے مفاد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پُرامن مقاصد کے لیے ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت کرتا ہے مسئلہ کشمیر اور پانی کے مسئلے سمیت تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، تجارت اور انسداد دہشت گردی پر بھی بھارت سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اگر وہ ( بھارت ) جارحانہ رویہ برقرار رکھنا چاہتا ہے تو پھر ہم اپنے مادر وطن کا دفاع کریں گے جیسا کہ ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے کچھ روز قبل کیا تھا.


































