Thu Oct 15, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

پُرامن مقاصد کے لیے ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت کرتے ہیں، وزیراعظم پاکستان

تہران : وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ دورہ پر تہران پہنچے تو مہرآباد ائیر پورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ایرانی فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی بھی پیش کی۔ وزیراعظم وفد کے ہمراہ سعد آباد محل پہنچے جہاں ایرانی صدر نے ان کا بھرپور اور گرمجوشی سے استقبال کیا۔ وزیراعظم کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔
وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات بھی ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا کیا۔ ملاقات میں سیاست،معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، بین الاقوامی امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے گہرے ثقافتی، اور تاریخی روابط ہیں اور ان روابط کو دونوں ممالک کے مفاد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پُرامن مقاصد کے لیے ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت کرتا ہے مسئلہ کشمیر اور پانی کے مسئلے سمیت تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، تجارت اور انسداد دہشت گردی پر بھی بھارت سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اگر وہ ( بھارت ) جارحانہ رویہ برقرار رکھنا چاہتا ہے تو پھر ہم اپنے مادر وطن کا دفاع کریں گے جیسا کہ ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے کچھ روز قبل کیا تھا.

مزید پڑھیے

Most Popular