
اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے غزہ کیلئے تشکیل دی جانیوالی بین الاقوامی استحکام فورس کیلئے فوج بھیجے جانے کا امکان ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت بین الاقوامی فورس میں شمولیت کی طرف مائل نظر آتی ہے۔ اخبار کے مطابق معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور عسکری اداروں کے درمیان مشاورت حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے، ان کے مطابق اندرونی مشاورت کا لہجہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد اس مشن میں حصہ لینے کے حق میں ہے۔ غزہ امن معاہدے کا ایک بنیادی ستون آئی ایس ایف کا قیام ہے، جو زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہوگی۔ اس فورس کے مینڈیٹ میں داخلی سیکیورٹی برقرار رکھنا، حماس کو غیر مسلح کرنا، سرحدی گزرگاہوں کی حفاظت، اور عبوری فلسطینی اتھارٹی کی نگرانی میں انسانی امداد و تعمیر نو میں مدد فراہم کرنا شامل ہوگا۔ اسلام آباد میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ممکنہ شمولیت اخلاقی ذمہ داری اور سفارتی ضرورت دونوں کا تقاضا ہے، پاکستان ان 8 ممالک کے ابتدائی امن منصوبے کا حصہ تھا جو 2024 کے آخر میں تشکیل دیا گیا تھا اور جسے متعدد مسلم ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی فوجی اہلکاروں کو غزہ بھیجنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم وہ انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، ترکیہ اور آذربائیجان سے اس کثیر القومی فورس میں شرکت کی بات چیت کر رہی ہے۔


































