
تہران : ایران کے شہر خوزستان میں عتبات عالیات کی تعمیر نو کے سربراہ حجت الاسلام موسوی نے اعلان کیا ہے کہ اس سال اربعین حسینی کے موقع پر صوبہ خوزستان مکمل آمادگی کے ساتھ زائرین کی خدمت کے لیے تیار ہے۔ شلمچہ اور چذابه کی سرحدوں پر مجموعی طور پر 700 مواکب لگیں گے جو اعلیٰ سطح کی خدمات فراہم کریں گے۔ اس سال 50 سے زائد موکب خواتین کے لیے مخصوص ہوں گے اور سرحدی ٹرمینلز پر خواتین زائرین کے لیے محفوظ اور مناسب ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
ٹھنڈے پانی اور برف کی فراہمی کو اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے تاکہ گرمی سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے زائرین کو بچایا جا سکے۔ موکبوں میں روزانہ تین وقت کا گرم کھانا فراہم کرنے کی مکمل تیاری ہے۔ سرحدی ٹرمینلز پر روحانی و دینی ماحول برقرار رکھنے کے لیے مختلف معنوی پروگرام بھی ترتیب دیے گئے ہیں۔ جن میں باجماعت نماز، زیارت عاشورا، اور دعائے ندبہ کی نشستیں شامل ہوں گی۔ چذابه بارڈر پر 300 اور شلمچہ پر 400 موکب تعینات ہوں گے، جن میں سے تقریباً 85 فیصد حسینیہ کی شکل میں مستقل سہولتوں سے آراستہ ہیں اور یہ موکب 5 دن تک سرحدوں پر خدمات انجام دیں گے۔ خوزستان سے 90 موکب عراق بھی روانہ کیے جائیں گے تاکہ ایرانی اور غیر ایرانی زائرین کی خدمت وہاں بھی فراہم کی جا سکے۔
عوام، خیرین اور حکومتی ادارے یکجہتی اور تعاون کے ساتھ ایک پُر شکوہ اور روحانیت سے بھرپور اربعین کی تیاریوں میں سرگرم ہیں۔


































