
اسلام آباد: بھاری ٹیکس لگائے جائیں گے, کسی قسم کی سبسڈی اور ٹیکس چھوٹ نہیں ہوگی۔ پاکستان آئی ایم ایف معاہدے کی سخت ترین شرائط سامنے آگئیں۔ عالمی مالیاتی فنڈز نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خود مختاری اور آزادی مزید محفوظ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پروگرام کے دوران کسی بھی طور پر معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ پاکستان کو مانیٹری پالیسی میں سختی لانا ہوگی ۔پاکستان معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ معاہدے کے تحت نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری ہوگی نہ ہی ٹیکس چھوٹ یا ٹیکس مراعات دی جائینں گی۔ تنخواہوں اور پنشن اخراجات کم کئے جائیں گے۔ بجلی اور گیس مہنگی کی جائے گی۔ کرنسی کا شرح تبادلہ مارکیٹ کے مطابق رکھا جائے گا۔ ٹیکس آمدن بڑھانے کےلیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ معاہدے کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح 25.9 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ معاشی ترقی کی شرح محض 2.5 فیصد ہوسکتی ہے۔


































