
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نےکہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات سے کسی نئے معاہدے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ امریکا یورینیم کی افزودگی پر ضرورت سے زیادہ اشتعال انگیز مطالبات کررہا ہے۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے رفقا کی پہلی برسی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ صدر شہید ابراہیم رئیسی کے دور میں بھی موجودہ دور کی طرح بالواسطہ مذاکرات ہوئے لیکن وہ بے نتیجہ رہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات کا بھی کوئی نتیجہ نکلے گا۔ ہمیں نہیں معلوم کیا ہوگا۔ لیکن ایران کے یورینیم افزودگی کے حق سے انکار کرنا بڑی غلطی ہے۔
آپ نے اس موقع پر شہید سید ابراہیم رئیسی کو ایک حقیقی عوامی شخصیت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ نہ صرف خود کو عوام سے برتر نہیں سمجھتے تھے بلکہ خود عوام کی سطح، عوام کی مانند حتی عوام سے کم قرار دیتے تھے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ شہید رئیسی کا دل خاشع اور ذکر الہی سے مالامال اور ان کی زبان سچی اور واضح تھی اور عمل کے میدان میں ان تھک اور مسلسل سرگرم رہتے تھے۔
آپ نے امریکہ کی جانب سے یورینیم کی افزودگی پر پابندی کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہ کہنا کہ ہم ایران کو افزودگی کی اجازت نہیں دیں گے بہت بڑی غلطی ہوگی۔ ایران کو کسی کی اجازت کا انتظار نہیں۔ ہماری اپنی پالیسیاں اور اپنا طریقہ کار ہے اور اپنے فیصلوں کی خود پیروی کرتے ہیں۔ انھوں نے ایران میں یورینیم کی افزودگی نہ کیے جانے پر امریکیوں اور بعض مغربی ممالک کے اصرار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پھر کسی وقت میں قوم کو بتاؤں گا کہ اس اصرار کے پیچھے ان کی اصل نیت اور ہدف کیا ہے۔


































