
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر حکومت اور ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکام دہشت گرد گروپوں کے خلاف آپریشن کے بجائے انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قاتلوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے خیانت کار ہیں۔ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔ ایم ڈبلیو ایم کے سیکریٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے پاراچنار کے قائدین کے ہمراہ مرکزی سیکریٹریٹ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں واضح نہیں، ایسے عناصر نے ماضی قریب میں ضلع کرم میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کرم ایجنسی کے حساس ترین علاقے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جو طاقتیں عسکریت پسندوں کی سرپرستی کر رہی ہیں حکومت انہیں لگام دے۔ خطے کے عوام کی جانب سے طالبانائزیشن کے خلاف بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کرم ایجنسی کو ضلع کی حیثیت دے کر ایف سی آر کا خاتمہ کر دیا گیا ۔آئینی اعتبار سے پولیس انتظامیہ ضلع کے امن و امان کی ذمہ دار ہے۔اس طرح بیوروکریسی کے ذریعے ضلع کے دیگر معاملات کو چلایا جانا چاہئے ۔لیکن یہاں کی صورتحال بالکل برعکس ہے۔ علاقے میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو نشانہ بنا کر فرقہ واریت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ صدہ میں میڈیکل کے طالب علم شیعہ نوجوان اور دوسرے مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل ان عناصر کی کارستانی ہے جن کا ایجنڈا پارا چنار اور گردو نواح میں بدامنی کو فروغ دینا ہے۔طے شدہ منصوبے کے تحت کرم ایجنسی کے حالات خراب کیے جا رہے ہیں۔ یہاں کے عوام مدبر اور بابصیرت ہیں وہ ملک دشمن مذموم عناصر کو قطعی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ کرم ایجنسی کے زمینی تنازعات کو مسلکی رنگ دے مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے۔ان معاملات کو ریونیو ریکارڈ کے مطابق حل نہ کیا جانا بددیانتی ہے۔کابل مذاکرات میں فاٹا کی سابق حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ بدنیتی پر مبنی ہے۔اس کا مقصد پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کے داخلے کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔ پاراچنار کی موجودہ آئینی حیثیت کے خلاف کسی بھی اقدام کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔


































