
نئی دہلی : بھارت میں ہندوتوا انتہا پسندوں کے دُہرے معیار پر تنقید کے جرم میں ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنما راجہ صاحب محمود آباد کے پوتے علی خان محمود آباد کو دہلی سے گرفتار کرلیا گیا۔ اپنی فیس بک پوسٹ میں علی خان محمود آباد نے لکھا تھا کہ میں آپریشن سندور میں کرنل صوفیہ کی کارکردگی پر دائیں بازو کے لوگوں کو تالیاں بجاتے دیکھ کر خوش ہوں مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اسی شدت کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کر سکتے کہ ہجومی تشدد، مکانات پر بلڈوزر چلائے جانے اور بی جے پی کہ نفرتی سیاست کے شکار شہریوں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے۔ علی خان محمود آباد کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے۔ مسلح بغاوت یا تخریبی سرگرمیوں پر اکسانے اور مذہبی عقائد کی توہین کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا ہے۔


































