
نیویارک : اقوام متحدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ نصف صدی میں 10 لاکھ سے زیادہ عراقی لاپتہ ہوچکے ہیں۔ یوم کمیٹی آن انفورس ڈس اپیرنس نے 1968 سے اب تک کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق جبری گمشدگی کا سلسلہ مختلف ادوار میں مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پرجاری رہا۔ جس میں صدام کی آمرانہ حکومت، امریکی قیادت میں فوجی قبضے اور داعش تکفیری دہشت گردوں کا عروج شامل ہیں۔ دولاکھ کے قریب عراقیوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے نصف امریکا یا برطانیہ کی زیر انتظام جیلوں میں بند رہے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد عراق کی سرزمین پر داعش کی شکل میں دہشتگردی کی نئی لہر آئی جس میں بچوں کی جبری گمشدگی شامل ہے۔ کمیٹی نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک آزاد ٹاسک فورس تشکیل دے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ زیر حراست افراد کی فہرست اور اہل خانہ کو ان کے مقام سے آگاہ کیا جائے جبکہ لاپتہ افراد کو تلاش کیا جائے اور مجرموں کو سزا دی جائے۔ عراق اس گھناؤنے جرم کی روک تھام، خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے بنیادی قوانین نافذ کرے۔


































