Mon Oct 12, 2026

پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

روزانہ کی خبریں

ٹرمپ کی آمرانہ پالیسیوں کیخلاف لاکھوں امریکی سڑکوں پر نکل آئے

نیویارک : نیویارک، واشنگٹن اور شکاگو سمیت امریکہ بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمرانہ پالیسیوں کے خلاف لاکھوں امریکی سڑکوں پر نکل آئے۔ امریکا میں یہ مظاہرے نو کنگز کے عنوان سے کئے گئے جس میں ڈیموکریٹک رہنما بھی شریک ہوئے۔
سب سے بڑا احتجاج نیو یارک میں ہوا جہاں ٹائمز اسکوائر اور دیگر مقامات پر مظاہروں اور ریلیوں میں ایک لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔ ٹائمز اسکوائر میں ہزاروں افراد نے ڈیموکریسی ناٹ مونارکی اور دی کانسٹی ٹیوشن اِز ناٹ آپشنل جیسے نعرے بلند کیے۔ سینیٹ میں اقلیتی رہنما چَک شومر نے کہا کہ ہم امریکہ میں آمروں کو برداشت نہیں کریں گے۔
واشنگٹن ڈی سی میں سینیٹر برنی سینڈرز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم یہاں امریکہ سے نفرت نہیں بلکہ اس سے محبت کے اظہار کے لیے آئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہی وقت ہے جب جمہوریت کے تحفظ کے لیے عوام کو آواز بلند کرنا ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق کئی ریاستوں میں نیشنل گارڈ کو الرٹ رکھا گیا تھا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ تقریباً ستر لاکھ شرکاء کے باوجود مظاہرے پُرامن رہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular