
ہیڈ لائنز سننے کے لئے میں نے ٹی وی کھولا: پہلی خبر فلاں شہر میں حوا کی بیٹی سے ساتھ زیادتی، دوسری خبر فلاں شہر میں زیادتی، تیسری خبر فلاں شہر میں لڑکے سے زیارتی، چوتھی خبر زیادتی کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل، مذمت، نوٹس، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
ہیڈلائنز زیادہ تر زیادتیوں کی خبروں سے بھری ہوئی تھی۔ میرے ساتھ میرے گھر والے بھی خبریں سن رہے تھے۔ نیوز دیکھتے دیکھتے اچانک میری چھوٹی بیٹی نے سوال کیا۔ پاپا یہ زیادتی کیا ہوتی ہے؟؟ میں چپ سا ہو گیا میری 5 سالہ بیٹی کو میں کیا جواب دیتا کیسے سمجھاتا؟؟
پھر میں سوچ میں پر گیا کہ پورا دن ایسی خبروں سے بچوں کے ذہنوں پر کیا اثر ہوتا ہوگا۔ کیا ہمارے نیوز چینلز کے پاس دکھانے کو ایسی ہی خبریں رہ گئیں ہیں؟ ہمارے ملک اور پوری دنیا میں اس کے علاوہ کچھ نہیں ہو رہا؟ کیا ان کے پاس خبروں کی کمی ہے؟ یا پھر جان بوجھ کر اس قسم کی خبروں کو بار بار پورا دن نشر کیا جا رہا ہے۔
جرائم تو پوری دنیا میں ہوتے ہیں، سب سے زیادہ ریپ(زیادتیاں) ہندوستان اور امریکا جیسے ممالک میں ہوتی ہیں لیکن وہاں کا میڈیا کبھی ان چیزوں کو اس طرح نہیں دکھاتا کیوں؟
کیا پاکستانی میڈیا کے پورا دن ایسے گھناؤنے واقعات کے پرچار سے ان میں کمی آئی ہے؟ تو جواب ہے "نہیں” بلکہ ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔ مسلسل ایسی خبریں دکھانے، اس پر ٹاک شوز کرنے، اس موضوع پر مارننگ شوز کرنے اور خصوصاً اس قسم کے واقعات کی ڈرامائی انداز میں فلم بندی سے ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ایسے گھناؤنے فعل کی مسلسل تکرار سے اس کی جانب مزید رغبت بڑھی ہے، جن کے ذہن میں اس قسم کے گندے خیالات نہیں تھے وہ پیدا ہونا شروع ہو گئے۔
کیوں کچھ عرصے سے ہمارے ٹی وی چینلز ان چیزوں کا پرچار اور ان کو بڑھاوا دے رہے ہیں؟ کیوں ہمارے ذہنوں اور سوچوں میں ایسے گندے خیالات پیدا کر رہے ہیں؟ ہماری معاشرتی، اخلاقی اور فکری پستی میں میڈیا کا کتنا کردار ہے؟
آخر میڈیا ہائوسز کیوں معاشرے کو بے حیائی اور بے راہروی کی جانب دکھیل رہے ہیں؟؟ کس لئے اور کس کے کہنے پر؟؟


































