Mon Oct 19, 2026

یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے، یمنی فوج کا نجران پر جوابی میزائل حملہ شرائط پوری ہو جائیں تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی، عراقچی بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بم دھماکے سے میجر شہید، 4 دہشت گرد ہلاک مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان کینیڈا کے فوجی اڈے پر تباہ کن آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق؛ تحقیقات جاری فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش، مصری صدر یمن میں کارروائی کیلئے تیار خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں ایران کا انصار اللہ اور سعودی عرب میں ثالثی کی پیشکش کا اعادہ بی بی زینبؑ کا کردار، صبر، بہادری اور ثابت قدمی خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہے، ولی امر مسلمین اسرائیل مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کا جبری قیام روکے، چینی وزیرخارجہ

روزانہ کی خبریں

رواں برس کے آخر تک متعدد خطوں کو قحط سالی کا سامنا کرنا پڑے گا، اقوام متحدہ نے خبردار کردیا

برلن : اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کی بڑھتی کمی کے سبب کئی ممالک کو سال کے آخر تک قحط سالی کا سامنا ہوسکتا ہے جب کہ آئندہ برس صورت حال مزید خوفناک ہوگی۔ انتونیو گوتریس نے برلن میں موجود ترقی پذیر ممالک کے رہنماؤں کے نام ویڈیو پیغام میں روس اور یوکرین جنگ کے دنیا پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے ہولناک انکشافات کیے ہیں۔ انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ کورونا وبا، ماحولیاتی تبدیلیوں اور غذائی قلت کے بحران سے دنیا بھر میں کئی ملین افراد پہلے ہی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ ایسے میں روس اور یوکرین کی جنگ نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ رواں برس کے آخر تک متعدد خطوں کو قحط سالی کا سامنا کرنا پڑے گا اور آئندہ برس یہ صورت حال مزید خوفناک ہو گی۔ انتونیو گوتریس نے روس اور یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وبا سے باہر آنے والی دنیا کو مزید کسی بحران میں نہیں جھونکا جا سکتا۔ یہ سب کے لیے نقصان دہ ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular