
نیویارک: امریکا نے لالچ اور دھمکیاں دے کر فلسطینی انتظامیہ کو سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف قرار داد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مطلع کیا ہے کہ وہ اسرائیل کیخلاف پیش کی گئی قراداد پر رائے شماری نہیں چاہتا۔ فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ مل کر تیار کی گئی قرارداد میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کی اپنی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کر دے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے فلسطینی انتظامیہ کو بائیڈن کے ساتھ عباس کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات، یروشلم میں امریکی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے اور اہم امدادی پیکج کا وعدہ کیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی آبادکاری کی عارضی معطلی، فلسطینی مکانات مسماری روکنے کے اعلان کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے کئی اقتصادی اقدامات پر اتفاق کیا ہے جس سے فلسطینی ٹیکس کی آمدنی میں سالانہ چھ کروڑ ڈالر سے زیادہ اضافہ ہوگا۔


































