
اسلام آباد : مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دنیا کے کسی دستور میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
مجلس اتحاد امت پاکستان کے تحت مشاورتی اجتماع سے خطاب میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ہمیں 27 ویں ترمیم کے اس نکتے پر شدید اعتراض ہے کیوں کہ تاحیات استثنیٰ دینا اسلام اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 سال سے کم عمری کی شادی پر سزا خلاف اسلام ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد مقاصد منظور کی گئی یہ طے پایا قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، وفاقی شرعی عدالت کا قیام اسی لئے ہوا کہ جو قانون قرآن و سنت کے خلاف ہو اسے ختم کیا جائے۔ ملک میں نفاذ شریعت کے لیے آئینی جدوجہد ہی ایک واحد طریقہ ہے، پاکستان اور افغانستان میں کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر علمائے کرام کو متفقہ رائے پیش کرنی چاہیے، دینی مدارس کا مسئلہ سالہا سال سے لٹکا ہوا ہے۔
مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ 2028ء سے ملک سے سود کا خاتمہ کر دیا جائے گا اب یہ سوچی سمجھی کوشش کی جارہی اس پر عمل نہ ہو۔ غزہ کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا، حماس کو غیر مسلح کرنے کی امریکی کوشش میں پاکستان کو شامل کرنے کی مخالفت کی جائے گی۔


































