
RAFAH, GAZA – MARCH 03: (EDITORS NOTE: Image depicts death) Palestinian woman Rana Abu Anze mourns after losing her husband and 4-month-old twin babies after Israeli strike hitting the house of Abu Anze family in Rafah, Gaza on March 03, 2024. Family members received bodies from Al-Najjar Hospital morgue ahead of funeral and burial. ( Doaa Albaz – Anadolu Agency )
تل ابیب: صیہونی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور اپوزیشن پارٹی کے رہنما یائر گولان نے نیتن یاہو کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ غزہ میں بچوں کو مارنا ہمارا مشغلہ بن چکا ہے۔ یائر گولان نے مقامی ریڈیو اسٹیشن کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایک باشعور ملک عام شہریوں کے خلاف جنگ نہیں لڑتا۔ بچوں کو مارنا اس کا مشغلہ نہیں ہوتا اور وہ بڑے پیمانے پر آبادیوں کو بے دخل نہیں کرتا۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کی نسل پرست دور حکومت سے اسرائیل کے اقدامات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ یہودی قوم نے تاریخ میں ظلم، قتلِ عام اور نسل کشی کا سامنا کیا اب خود وہی اقدامات کر رہی ہے جو مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہیں۔
نیتن یاہو نے سابق اعلیٰ فوجی افسر کے بیان پر شدید غصے کا اظہار کیا اورکہا کہ یہ الزامات ہمارے بہادر سپاہیوں اور ریاستِ اسرائیل کیخلاف اشتعال انگیز ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بیان کو حاضر سروس اور ریزرو فوجیوں کے خلاف نفرت انگیز اور جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا۔


































