
ماسکو: روس نے جدہ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیلنسکی کے منصوبے کی بنیاد پر یوکرین کے ساتھ امن معاہدہ ناممکن ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ زیلنسکی منصوبے کے دس نکات میں سے کسی کا بھی مقصد بحران کا مذاکراتی اور سفارتی حل تلاش کرنا نہیں ہے بلکہ یہ روس کی جانب ایک بے ہودہ الٹی میٹم ہے، جسکا مقصد دشمنی کو طول دینا ہے۔ ایسی بنیاد پر پرامن تصفیہ ناممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیف کے برعکس روس بحران کے سفارتی حل کیلئے تیار ہے اور سنجیدہ تجاویز کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ادھر یوکرینی حکام نے جدہ مذاکرات کو روس کےلیے دھچکا قراردیا اور کہا کہ مذاکرات میں شریک ممالک نے یوکرین کی آزادی و علاقائی سالمیت کی حمایت کی اور آئندہ 6 ہفتوں میں ایک اورملاقات پر اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کو یقین دلایا کہ چین یوکرین پر اپنے آزاد اور غیر جانبدارانہ مؤقف کو برقرار رکھے گا۔ انہوں نے کہاکہ چین یوکرین کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے.


































