
اسرائیلی پارلیمنٹ نے اپنے شہریوں کے قتل میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا کالا قانون منظور کرلیا۔ بل کے حق میں باسٹھ جبکہ مخالفت میں اڑتالیس ووٹ پڑے ۔ قانون کے تحت ان فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دی جائے گی جو ایسی کارروائیوں میں ملوث پائے جائیں گے جن میں اسرائیلی ہلاک ہوئے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ قانون اسرائیلی عدالتوں کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ اسرائیلی شہریوں کے لیے بھی سزائے موت یا عمر قید میں سے کسی ایک سزا کا فیصلہ کر سکیں۔ تاہم یہ قانون ماضی پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ صرف آئندہ کیسز پر نافذ ہوگا۔ قانون کی منظوری کو اسرائیل کی انتہا پسند دائیں بازو کی جماعتوں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ انتہا پسند وزیر قومی سلامتی اتمار بن گوئر نے کہا کہ دہشت گردوں کے لیے اب کوئی بھاگنے کا راستہ نہیں۔ جو دہشت گردی کا انتخاب کرے گا اسے موت ملے گی.


































