
غزہ : غزہ میں قیدیوں کےادارے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی قیدیوں کو تشدد کے بعد حراست میں ہی قتل کیا اور ان کی لاشوں کو فوجی گاڑیوں سے کچلا گیا۔
ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق قیدیوں کے دفتر نے بتایا کہ لاشوں کے معائنہ اور طبی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینیوں پر تشدد، ہتھکڑیاں لگانے اور فوجی گاڑیوں سے روندنے کے بعد ان کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ بیان کے مطابق لاشوں پر تشدد، جلنے، ہتھکڑیوں اور کچلے جانے کے نشانات واضح طور پر موجود ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ لاشوں کو فریجوں میں رکھنا اور نامعلوم قبروں میں دفنانا فلسطینیوں کی تذلیل کی منظم پالیسی ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اہلِ خانہ کو لاشوں کی شناخت جسمانی نشانات یا کپڑوں سے کرنی پڑ رہی ہے ۔ کیونکہ اسرائیلی محاصرے اور لیبارٹریوں کی تباہی کے باعث فرانزک سہولتیں موجود نہیں ہیں۔ اسرائیل چودہ اکتوبر سے اب تک دو سو پچیس لاشیں حوالے کرچکا ہے۔


































