
طرابلس: صیہونی وزیر خارجہ اور لیبیائی ہم منصب کی ملاقات اتفاقیہ نہیں پہلے سے طے شدہ تھی۔ لیبیا کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ لیبیا کے دو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وزیراعظم عبدالحمید دیبہ کی اجازت سے نجلا منقوش نے صیہونی ہم منصب سے ملاقات کی جو دو گھنٹے جاری رہی۔ روم سے واپسی پر وزیر خارجہ نے وزیراعظم دیبہ کو ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ عہدیدار کے مطابق رواں سال جنوری میں سی آئی اے سربراہ ولیم برنز نے لیبیائی وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی اور لیبیا اسرائیل تعلقات معمول پر لانے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ وزیراعظم نے امریکی ثالثی میں لیبیا کی اسرائیل کیساتھ معاہدہ ابراہیم میں شمولت کی منظوری دیدی تھی۔ رپورٹ کےمطابق صیہونی اور لیبیائی وزرائے خارجہ کی ملاقات کو افشا کرنے پر امریکا تلملا اٹھا ہے اور اس نے اسرائیل پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس سے لیبیا کو ابراہم معاہدے میں لانے کی امریکا کی دو سالہ کوشش ختم ہو سکتی ہے۔ لیبیا کے ساتھ معاہدے سے دوسرے ممالک کو اسرائیل سےتعاون اور مفاہمت کو معمول پر لانے کی ترغیب ملتی۔ لیبیا کی وزیرخارجہ نجلا منقوش اپنے خلاف احتجاج کے بعد ترکیہ چلی گئی ہیں۔


































