
جنیوا : اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی تازہ رپورٹ میں اسرائیل کو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف چار نسل کشی کی کارروائیوں کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن کی سربراہ ناوی پلّے نے کہا کہ رپورٹ میں پیش کئے گئے نتائج عالمی قانون کے تحت جائزے پر مبنی ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیاگیا کہ اسرائیلی صدر، وزیر اعظم اور سابق وزیر دفاع نے نسل کشی کو ہوا دی۔ پلّے نے غزہ کی صورتحال کو تاریخ میں فلسطینی عوام کے خلاف سب سے سفاک، طویل اور وسیع حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نازک فائر بندی اور قیدیوں کی رہائی امید پیدا کرتی ہے، یہ پہلے سے ہو چکی تباہی کو واپس نہیں لا سکتی، اور غزہ پٹی تقریبا غیر رہائشی ہو چکی ہے۔ اسرائیلی حکام نے آبادی کی جبری منتقلی، بستیوں کی تعمیر اور علاقے کے الحاق کے منصوبوں کی حمایت کی ہے، اور حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقاصد اب بھی قائم ہیں.


































