Tue Oct 20, 2026

روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حملہ، سعودی نواز ملیشیا کے 53 افراد ہلاک، 200 زخمی ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مشیر ولی امر مسلمین یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے، یمنی فوج کا نجران پر جوابی میزائل حملہ شرائط پوری ہو جائیں تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی، عراقچی بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بم دھماکے سے میجر شہید، 4 دہشت گرد ہلاک مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان کینیڈا کے فوجی اڈے پر تباہ کن آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق؛ تحقیقات جاری فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک

روزانہ کی خبریں

صیہونی حکومت تحلیل اور دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ

تل ابیب : یہودی آبادکاروں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں رہائش کی اجازت دینا صیہونی حکومت کے خاتمے کاسبب بن گیا. اسرائیل کی اتحادی حکومت نے اگلے ہفتے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل پیش کرنے کا اعلان کردیا، بل منظور کرلیا گیا تو ملک میں ایک بار پھر نئے انتخابات ہوں گے۔ وزیراعظم نفتالی بیٹنیٹ اور وزیر خارجہ یائر لاپد نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اتحادی حکومت کو مستحکم رکھنے کی تمام کوششیں کرلی گئی ہیں جو ناکام رہیں، اب پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل پیش کیا جائے گا۔بل منظور ہونے کی صورت میں موجودہ وزیر خارجہ یائر لاپد اسرائیل کے نگران وزیراعظم بن جائیں گے۔نظریاتی طور پر منقسم حکومتی اتحاد 8 جماعتوں پر مشتمل ہے جس میں مذہبی قوم پرست، بائیں بازو اور مرکزیت کے نظریات رکھنے والے اور پہلی بار عرب اسلامسٹ پارٹی کے منتخب رکن بھی شامل ہیں۔ اتحادی حکومت رواں سال اپریل میں وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی پارٹی کی ایک رکن کے جانے سے اپنی اکثریت کھو بیٹھی تھی۔حال ہی میں ایک قانون پاس کیا گیا تھا جس کے تحت یہودی آبادکاروں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔حکومت میں شامل بائیں بازو کی جماعتوں نے اس قانون کی مخالفت کی تھی۔

مزید پڑھیے

Most Popular