
بغداد : عراق میں صدر گروپ کے سربراہ سید مقتدیٰ الصدر نے صدر برہم صالح کی جانب سے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی وکالت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو جرم قرار دینے والے قانون پر دستخط نہ کرنے پر برہم صالح پر کڑی تنقید کی اور ٹوئٹ کیا کہ یہ بہت شرمناک ہے کہ ملک کا صدر کہلانے والا شخص تعلقات کو معمول پر لانے کو جرم قرار دینےکے قانون پر دستخط کو قبول نہیں کرتا ہے۔ یہ عوام کے لیے باعثِ شرم ہے کہ ان کا صدر تعلقات کو معمول پر لانے کے حق میں ہے، یہ ایک غیر محب وطن شخص ہے اور حتیٰ مغرب یا مشرق کا پیروکارہے۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ میں خدا اور عراقی عوام سے اس طرح کے جرم اور ماضی اور مستقبل میں صدارت کے لیے ان کی امیدواری کے لیے معافی مانگتا ہوں۔ یاد رہے کہ 26 مئی کو عراقی پارلیمنٹ نے ایک قانون کا مسودہ منظور کیا جس میں اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کو جرم قرار دیا گیا اور یہ قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔


































