
تہران: ایران نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو دورے کی دعوت دیدی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے بتایا کہ صدر ابراہیم رئیسی نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو ریاض کے دورے کی دعوت کے جواب میں دعوت نامہ بھیجا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان باقاعدہ منصوبے کے تحت وزرائے خارجہ کی سطح پر وفود کا تبادلہ کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سیکیورٹی کے حوالے سے دو معاہدے زیرغور ہیں۔ سفارتی مشن کی بحالی کا منصوبہ بھی مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور مختصر مدت میں سفارت خانے کھولے جائیں گے۔ سفارتی تعلقات اب مکمل بحال ہوچکے ہیں۔ انہوں نے تعلقات کی بحالی کو بین الاقوامی جوہری معاہدے سے جوڑنے کی خبروں کی نفی کی۔ سوڈان میں جاری تنازعات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سوڈان اہم اسلامی ملک ہے لہذا اس کی سیکیورٹی اور خودمختاری ہمارے لئے اہمیت رکھتی ہے۔ فریقین سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ باہمی صلح سے تنازعات کو حل کریں۔ انہوں نے شام اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام کے معاملات کا سیاسی اور سفارتی حل ایران کی دیرینہ خواہش ہے۔ انہوں نے آذربائیجان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں کہا کہ دشمن دونوں ممالک کو تنازعات میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ صیہونی حکومت ایران اور آذربائجان کے دوستانہ روابط سے فکرمند ہے۔ اسرائیل کا وجود خطے اور اسلامی ممالک کے باہمی اختلافات پر باقی ہے۔ اسی لئے صیہونی حکومت خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی مسلسل کوشش کرتی ہے۔


































