
تہران : ولی امر مسلمین آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران استکباری طاقتوں کیخلاف عالمی جنگ میں مصروف ہے۔ انہوں نے ایران کے مد مقابل لبرل ڈیموکریسی کے پیچھے چھپے محاذ کو جھوٹوں کا محاذ قرار دیا ۔ طلبہ اور مبلغین سے ملاقات میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ ایرانی قوم کے مد مقابل جو محاذ ہے وہ حریت و آزادی کے خلاف اور سامراجی طاقتوں سے ناوابستہ ہر طرح کی جمہوریت کا دشمن ہے اور اس محاذ کے خلاف ایرانی قوم اور اسلامی نظام کی جد وجہد اور جنگ، تہذیب و تمدن کی عالمگیر جنگ ہے۔ انہوں نے یوکرین کی بے چارہ اور بے سہارا قوم کو مغرب کی سامراجی ذہنیت اور اس کی لوٹ مار کے تسلسل کا ثبوت قرار دیا اور کہا کہ یوکرینی عوام کا قتل اس لئے ضروری ہو گیا ہے کہ مغربی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات، یوکرین کی جنگ جاری رہنے سے ہی جڑے ہیں۔ ولی امر مسلمین نے مغرب کو آج کسی بھی دوسرے وقت سے زيادہ کمزور قرار دیا اور کہاکہ امریکہ بھی آج سیاسی میدان، اقوام عالم سے اور خود امریکی قوم سے مقابلہ آرائي، نسلی امتیاز، جنسی بے راہ روی ، جرائم اور بے رحمی میں، خباثت سے بھرے شیطان صفت لوگوں کا اڈہ ہے۔ انہوں نے موجودہ دور میں جاری تبلیغی سرگرمیاں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُس سے کہیں زیادہ ملک کو تحقیقات پر مبنی تبلیغ کی ضرورت ہے عوام میں صحیح تبلیغ کے علاوہ کسی اور ذریعے سے خدا کے دین پر درست طریقے سے عمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کے لوگ، نفسیات جیسے علوم سے فائدہ اٹھا کر سو فیصد غلط بات کو، ایک صحیح بات کے بھیس میں لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کر دیتے ہيں۔ اگر ہم تبلیغ کے سلسلے میں روز سامنے آنے والے نئے نئے طریقوں سے غافل رہے یا ان کے بارے میں ہم نے کوتاہی سے کام لیا تو ہم ثقافتی دگرگونی کا شکار ہو جائيں گے اور مغرب کی طرح دھیرے دھیرے گناہان کبیرہ اور برائیوں کو غلط سمجھنا ختم کر دیں گے کہ جس کی تلافی پھر آسانی سے ممکن نہيں ہوگی، جیسا کہ امام خمینی (رہ) ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایران میں اسلام کو گزند پہنچی تو اس کے اثرات برسوں تک باقی رہیں گے۔


































