
کابل: ایران نے افغانستان کی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ جبکہ پاکستان نے کہا ہےکہ اسے ایران کے فیصلے کا علم نہیں۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایرانی سفارتخانے کی جانب سے اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں افغان طالبان کے سینیئر حکام نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں نعیم وردک نے طالبان حکومت کی جانب سے ایران کے ساتھ ’قریبی‘ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وردک کا کہنا تھا کہ کابل اور تہران کے قریبی تعلقات کے بغیر خطے میں پائیدار استحکام اور ترقی نہیں ہو سکتی۔
ادھر نجی افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز کو انٹرویو میں ایرانی سفارتخانے کے ناظم الامور علی رضا بیکدلی نے ایران کی جانب سے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ اپنے وقت پر ہو گا اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے اور اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ گذشتہ ماہ ایران میں فساد کے دوران طالبان نے خاموشی اختیار کی تھی جبکہ طالبان کے ایک عہدیدار نے ایرانی حکومت کے خاتمے کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔ پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بریفنگ میں بتایا کہ افغانستان کو تسلیم کرنے سے متعلق ایران کے فیصلے کے بارے میں علم نہیں تاہم یہ ہر ملک کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔


































