
تہران : ہیومن رائٹس واچ نے ایران کے جنوبی علاقے میں ایک پرائمری اسکول پر حملے کو ممکنہ جنگی جرم قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی محقق صوفیا جونز نے کہا کہ اسکول پر حملے کی فوری اور جامع تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملہ کرنے والوں کو اسکول اور اس میں بچوں کی موجودگی کا علم تھا یا نہیں۔ اور اگر یہ حملہ غیرقانونی ثابت ہو تو ذمہ داروں کو جنگی جرائم کے تحت جواب دہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر قانونی حملے کے ذمے داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے، اور الزامات میں جنگی جرائم بھی شامل ہونے چاہیئں۔ تنظیم کے محققین نے حملے کے فوری بعد یا بچاؤ کے عمل کے دوران سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی چودہ ویڈیوز اور تصاویر کے علاوہ چار تدفین کی تصاویر کا بھی جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً چالیس پبلک سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا گیا جو گزشتہ پچیس سال میں مختلف اوقات میں لی گئی تھیں۔


































