Thu Oct 15, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

ایران نے روس کیساتھ 20 سالہ شراکت داری کے معاہدہ کی منظوری دیدی

تہران : ماسکو اور تہران کے درمیان 20 سالہ اسٹرٹیجک شراکت داری معاہدے کی ایرانی پارلیمان نے منظوری دے دی ہے۔ جس میں دوطرفہ تعلقات کو وسیع کرنا اور دفاعی تعاون بڑھانا شامل ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان نے 17 جنوری کو اسٹرٹیجک شراکت معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ روس کی قانون ساز برانچ نے اپریل میں اس معاہدے کی منظوری دی تھی، تاہم معاہدے میں باہمی دفاعی شق شامل نہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ فوجی خطرات کے خلاف مل کر کام کریں گے، اپنے فوجی تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ مشترکہ مشقوں میں حصہ لیں گے۔ 2022 میں یوکرین میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران اور روس کے درمیان فوجی تعلقات گہرے ہوئے ہیں، مغربی ممالک ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ یوکرین پر حملے کرنے کے لیے روس کو میزائل اور ڈرون فراہم کرتا ہے، تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ اسٹریٹجک معاہدے میں متعدد شقیں بھی شامل ہیں جن کا مقصد اقتصادی شراکت داری کو بڑھانا ہے، اس میں خاص طور پر براہ راست بینکوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا اور ان کی قومی مالیاتی مصنوعات کو فروغ دینا شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور روس کی قیادت میں یوریشین اکنامک یونین کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ گزشتہ ہفتے نافذ ہو چکا ہے، جس کے تحت دونوں معیشتوں نے تجارت کو فروغ دینے کے لیے محصولات میں کمی کی ہے، جیسا کہ دونوں ممالک مغربی پابندیوں کی زد میں ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular