Sun Oct 25, 2026

امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور اردن، گرجا گھر میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 20 زخمی پاکستان اور سعودیہ نے مکہ معاہدے کی توثیق کے مراحل مکمل کرلیے، دفترخارجہ یمن پر سعودی اور اتحادی فورسز کے حملوں میں 9 شہری جاں بحق امریکا نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 11 ارب ڈالر پھونک دیے، عراقچی الخلیل میں چیک پوسٹ پر حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی اربوں ڈالر خرچ ہوگئے جنگ سے امریکا کو کیا ملا؟ ، امریکی سینیٹرز ایران پر حملہ ہوا تو انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی لائنیں تباہ کردیں گے، رحیم صفوی یورپ میں مظاہروں میں شدت: فرانس میں مرکزی طلبہ یونین کی ہفتہ کو احتجاجی ریلیوں کی کال غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید یمن کے حوثی باغی نہیں، پاکستان جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس سعودی اور عراقی وزراء خارجہ کا رابطہ، سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے مسائل حل کرے گی، وزیراعظم مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوج کی تعداد میں خاموشی سے کمی

روزانہ کی خبریں

قرآن پاک کی توہین، آیت اللہ سیستانی کا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط

نجف : بزرگ مرجع آیت اللہ سیستانی نے سوئڈن میں قرآن پاک کی توہین کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس کو خط لکھ دیا انہوں نے لکھاکہ توہین آمیز اقدام کے لئے سوئیڈن کی حکومت کی طرف سے اجازت نامہ جاری کرنا نہایت شرمناک اور آزادی اظہار کی روح کے منافی عمل ہے۔انہوں نے لکھا کہ یہ توہین آمیز رویہ حالیہ برسوں میں مختلف ممالک میں ایک سے زیادہ مرتبہ پیش آچکا ہے، لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس بار یہ سوئڈن کی پولیس کے رسمی اجازت نامے کے ساتھ اور اس کی موجودگی میں آزادی اظہار کے نام پر ہوا جب کہ یہ بات یقینی ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا احترام ایسے شرمناک عمل کو انجام دئے جانے کا جواز نہیں بنتا، جو دنیا کے دو ارب سے زائد مسلمانوں کے مقدسات پر کھلے عام حملے کی نمائندگی کرتا ہو، اور اس طرح انتہا پسندانہ خیالات اور غلط طریقوں کے رواج پانے کا باعث بنتا ہو۔ بزرگ مرجع نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کرے اور ان ممالک پر ایسے واقعات کا سبب بننے والے قوانین پر نظر ثانی کے لئے دباؤ ڈالے۔ انہوں نے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان پرامن باہمی تعلقات، حقوق کی دیکھ بھال اور سب کے باہمی احترام پر مبنی فکری نقطہ نظر کی تاکید کی.

مزید پڑھیے

Most Popular