
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نان فائلرز کے اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحہ لائسنس رکھنے والے نان فائلرز کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جہاں کچے کے ڈاکوؤں، نان فائلرز کو جاری سلحہ لائسنس سمیت دیگر امور زیر بحث آئے۔ کمیٹی میں اسلحہ لائسنسوں کی تفصیلات پیش کی گئیں جن میں بتایا گیا کہ 2024 میں دو ہزار 962 نان فائلرز اور 189 فائلرز کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے، 2025 میں دو ہزار 696 نان فائلرز اور 848 فائلرز کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نان فائلرز کو اسلحہ لائسنس کیوں دے رہے ہیں، جب ایک شخص ٹیکس ہی نہیں دے رہا تو اسے آپ اسلحہ کیوں دے رہے ہیں، جو ٹیکس فائلر نہیں ہیں ان کے لائسنس منسوخ کریں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا گزشتہ ادروار میں اسلحہ لائسنس بہت زیادہ تعداد میں جاری کیے گئے لیکن اب حکومت نے سخت پالیسی اپنا رکھی ہے، ممنوعہ بور صرف اہل لوگوں کو ہی دیے جا رہے ہیں، پچھلے ادروار میں جو لائسنس بنائے ہیں اس سے بہت کم لائسنس بنائے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ نان ٹیکس فائلرز کے لائسنس منسوخ کریں، جس پر وزیرداخلہ نے کہا فوری طور پر ان کے لائسنس منسوخ نہ کریں ان کو وقت دے دیں کہ یہ لوگ فائلر بن جائیں۔
کمیٹی نے ہدایت کی تمام نان فائلر اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کونوٹس جاری کریں اور ان کو وقت دیں تاکہ وہ فائلر بن سکیں، اگر فائلر نہیں بنتے تو ان کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں۔ اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کچے کے ڈاکوؤں پر کیوں قابو نہیں پایا جارہا؟ میرے علاقے سے بھی دو لوگوں کو چکمہ دے کر لے جایا گیا اور تاوان ادا کرکے انہیں واپس لانا پڑا۔ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم بہت کوشش کر رہے ہیں ان کے خاتمے کی، میرے سات ایس ایس پی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، یہ سندھ اور پنجاب کا سرحدی علاقہ ہے پولیس کی کارروائیوں کے باعث پچھلے 6 ماہ میں وہاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کچے کے حوالے سے زبردست آپریشن چل رہا ہے، موجودہ آئی جی سندھ کافی کوشش کر رہے ہیں، ڈاکووں کے خلاف کارروائی کرنے کی۔


































