
جنیوا: عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں متعدی امراض بے قابو ہو چکے ہیں اور صحت کا نظام تقریباً ختم ہو گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ اور کی علاقائی ڈائریکٹر حنان بلخی نے اے ایف پی نیوز ایجنسی سے انٹرویو میں کہا کہ غزہ کے 36 اسپتالوں میں سے صرف 13 جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہاں علاج معالجے کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گردن توڑ بخار ، گولین بیری سنڈروم ، اسہال یا سانس کی بیماریاں پھیل گئی ہیں۔ غزہ میں کام کی ضرورت کا پیمانہ ناقابل تصور ہے۔ ہمیں مرحلہ وار اس سے نمٹنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں صحت کے شعبے کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر اور کئی دہائیوں کے کام کی ضرورت ہوگی۔ مکمل طور پر تباہ ہوجانے والے اسپتالوں کو دیکھا جائے تو ان کو اب بحال کیا جانا مناسب نہیں رہا۔


































