
نیویارک (نیٹ نیوز) بھارت رواں ماہ ممکنہ طور پر دو سال کی مدت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے غیر مستقل رکن کے طور پر منتخب ہو جائے گا جس کے بعد توقع ہے کہ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کی وکالت کرنا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق 17 جون کو جنرل اسمبلی سلامتی کونسل دو سال کی مدت کے لیے 5 ریاستوں کا انتخاب کرنے والی ہے اور اس سال یہ انتخابات کورونا وائرس کی وجہ سے ایک الگ طریقہ کار کے ذریعے ہوں گے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مہینے کے آخر تک اقوام متحدہ میں ہونے والے تمام اجلاس کو ملتوی کرنا پڑا تھا۔ عام طور پر انتخابات جنرل اسمبلی ہال میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوتے ہیں تاہم اس بار یہ متعدد مقامات پر ہو سکتے ہیں جس کے بارے میں پیر کو تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
ممبر ممالک بڑے اجتماعات پر پابندی کی وجہ سے مقررہ ٹائم سلاٹوں کے دوران اور کسی مخصوص مقام پر اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ یو این ایس سی میں غیر مستقل اراکین کی 10 نشستوں کو علاقائی گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں افریقی گروپ، ایشیا پیسیفک گروپ، لاطینی امریکی اور کیریبین گروپ، مغربی یورپی اور دیگر گروپ شامل ہیں۔ بھارت اس نشست کے لیے ایشیاء پیسیفک گروپ سے حصہ لے رہا ہے جسے انڈونیشیا نے خالی کیا ہے، بھارت کی فتح تقریباً محفوظ ہو گئی ہے کیونکہ اس نشست پر مقابلہ خطے کے دیگر ممالک میں سے کسی نے نہیں کیا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ گزشتہ سال بھارت 55 اراکین پر مشتمل علاقائی گروپ سے اس نشست کے لئے بلامقابلہ نامزد ہوا تھا جس کا حصہ پاکستان بھی ہے۔ تاہم بھارت پھر بھی بیلٹ پر ہو گا کیونکہ اقوام متحدہ کے انتخابی قواعد کے تحت اگر اقوام متحدہ کے تمام 193 ممبران نے ووٹنگ میں حصہ لیا تو اسے کامیاب قرار دینے کے لیے کم از کم 129 ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہو گی۔


































