
اودے پور : بھارتی ریاست راجھستان کے شہر اودے پور میں گستاخانہ بیان پر ہندو درزی کو قتل کردیا گیا۔ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہندو درزی کنہیا لال تیلی کو گستاخانہ بیانات کے ردعمل میں قتل کیا گیا۔ دو افراد ہندو درزی کی دکان پرکپڑے سلوانے کے بہانے آئے اوراسے دکان سے باہر لے جا کر قتل کردیا۔ ملزمان نے واقعہ کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے وائرل کردیا ملزمان نے قتل کے بعد اعترافی ویڈیو بھی جاری کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی گستاخ رسول(ص) کو نہیں چھوڑیں گے.انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کی جانب سے پیغمبر اسلام(ص) کے بارے میں گستاخانہ بیان کی حمایت کا بدلہ لیا ہے۔حکام نے ہندو درزی کے قتل کو دہشت گردی کا واقعہ قراردے دیا۔
ہندو درزی کے قتل کے بعد مشتعل مظاہرین نے مسلمانوں کیخلاف جلوس نکالے۔ ان کے گھروں اوردکانوں پرحملے کئے اورآگ لگا دی۔ اودے پورمیں کرفیو نافذ کرکے موبائل اورانٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے۔ عوامی اجتماعات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے.انڈیا کی تمام تر مسلم تنظیموں کی جانب سے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے جبکہ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور اس کے علاوہ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسے نازک موقع پر وزیر اعظم کو عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کرنی چاہیے.


































