
اسٹاک ہوم: سوئیڈن میں شامی نژاد شہری نے توریت اور انجیل جلاکر احتجاج کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ شامی نژاد سوئیڈش شہری احمد الوش اسٹاک ہوم میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے پہنچا اور اپنے بیگ سے لائٹر نکال کر زمین پر پھینک دیا۔ اور کہا کہ اس کا کبھی بھی مقدس کتاب جلانے کا ارادہ نہیں تھا۔ بلکہ احتجاج کا مقصد قرآن کی بےحرمتی کرنے کے خلاف آواز اٹھانا تھا یہ ان لوگوں کو جواب ہے جنہوں نے قرآن کو جلایا – الوش نے کہاکہ اگر آپ اسلام پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔ لیکن قرآن کو جلانا اظہار رائے کی آزادی نہیں بلکہ ایک عمل ہے۔ قرآن پاک کی بےحرمتی کرنے والوں کو بتانا تھا کہ ایک معاشرے میں رہنے والوں کو ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ پولیس نے الوش کو اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے توریت اور انجیل نذر آتش کرنے کی اجازت دی تھی ۔


































