
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں کرم کی صورتحال پر 3 ہفتے سے جاری گرینڈ جرگہ میں بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ فریقین نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اہل تشیع کی جانب سے انجمن حسینیہ کی سربراہی میں ارکان چند روز قبل ہی امن معاہدے پر دستخط کر چکے تھے۔ جبکہ مقابل فریق نے آج دستخط کیے۔ جرگہ ممبر ملک ثواب خان نے بتایا کہ فریقین اپیکس کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے، معاملات طے ہو گئے اور تحفظات دور ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین 14 نکات پر رضا مند ہو گئے۔ پیش رفت کے حوالے سے ملک ثواب خان نے مزید بتایا کہ کوئی بھی فریق بغیر لائسنس کے اسلحہ نہیں رکھ سکے گا، فریقین مورچے خالی کرنے پر رضامند ہو گئے، اسلحہ حکومتی سرپرستی میں جمع کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق ایک اور جرگہ ممبر ملک سید اصغر نے کہا کہ فریقین نے معاہدے پر دستخط کر دیے۔
کمشنر کوہاٹ کا کہنا ہے کہ کرم مذاکرات فریقین کے درمیان کامیاب ہو گئے ہیں، تین دستخط رہتے تھے، باقی پہلے ہی ہو گئے تھے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جرگہ رکن ملک ثواب خان کا کہنا تھا کہ سڑکیں کھولنے سے متعلق حکومت فیصلہ کرے گی، کرم میں حالات معمول پر آنے میں کچھ وقت لگے گا، ایک دو مہینے میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ ملک ثواب خان کا کہنا تھا کہ اہل تشیع کی جانب سے انجمن حسینیہ کی سربراہی میں ارکان نے معاہدے پر دستخط کیے جب کہ اہل سنت کی جانب سے انجمن فاروقیہ کی سربراہی میں ارکان نے دستخط کیے۔


































