
اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو رہا کردیا گیا۔ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں کل ضمانت منظور کرلی گئی تھی لیکن روبکار جاری نہ ہونے پر انہیں رہا نہیں کیا جاسکا تھا۔ آج وہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا ہوکر اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ ہوکر بنی گالہ پہنچ گئیں۔ بعد میں وہ پشاور چلی گئیں۔ بشریٰ بی بی کو اٹک پل سے خیبرپختونخوا پولیس نے پروٹوکول کے ساتھ پشاور پہنچایا۔ بشریٰ بی بی وزیر اعلیٰ سمیت پارٹی کے کئی دیگر قائدین سے ملاقات کریں گی۔ بشریٰ بی بی شوکت خانم اسپتال پشاور سے چیک اپ کروائیں گی۔ ان کی میڈیکل ٹیم کل اسلام آباد سے پشاور پہنچے گی۔ بشری بی بی مجموعی طور پر 9 ماہ جیل میں رہیں۔ انہیں رواں سال 31 جنوری کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا ہوئی تھی ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشری بی بی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل کردی تھی لیکن انہیں رہا کرنے کے بجائے توشہ خانہ ٹو کیس میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔
ادھر ایک ماہ کے بعد عمران خان سے بھی وکلا کی ملاقات کرادی گئی۔ ملاقات کے بعد وکیل شعیب شاہین نے بتایاکہ عمران خان کے ڈیتھ سیل کی پانچ دن بجلی بند رکھی گئی۔ اخبارات اور ٹی وی سے محروم کردیا گیا جبکہ ان کی ایکسرسائز کی مشین 20 دنوں بعد آج ملی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ مارشل لا میں بھی ایسا ظلم نہیں ہوا۔ بہنوں کو بھی اٹھا لیا اور ضمانتیں نہیں ہو رہی ہیں۔


































